مسافروں کو لوٹنے آئے ڈاکو الٹا سو روپے چندہ دے کر لوٹے.

آخر ماجرہ کیا تھا کون تھا وہ شخص جسے دیکھ کر ڈاکو


ہاتھ چوم کر بولے ہمیں تو گھر والے لینے سے انکار کرنگے لیکن تم لینے بھی اوگے اور قبر پر مٹی بھی ڈالو گے. 


جنہیں والدین اپنانے سے قاصر ہوں ان کو باپ کی شفقت و رجسٹریشن سمیت پالنے کی, میداری کون اٹھاتا ہے ؟


یہ وہ شخص تھا جسے دنیا عبدلستار ایدھی کے نام سے جانتی ہے ایدھی فاونڈیشن کی بانی عبدلستار ایدھی دنیا سے رخصت تو گئے لیکن تاریخ میں انکا نام ہمیشہ زندھ رہے گا.


یہ 70کی دھائ کی بات ہے جب سویل ہسپتال کراچی میں ایک جوان لڑکی  کی میت  منتقل کرنی تھی جس کے ہمرہ ایک ضعیف ماہ اور دیگر رشتےدار تھے کراچی سے روانہ ہونے والی ایمبولینس کو خد عبدالستار ایدھی چلا رہے تھے اور نرس کے طور پر خدمات انجام دینے والی خاتون بلقیس ایدھی تھی,


شام کے وقت جب شہر اور دیہاتوں سے ہوتی ہوئ یہ ایمبولینس سانگھڑ شہر کے سنسان علاقے پونچی تو چند گھوڑوں پر سوار ڈاکووں نے انہیں روک لیا جوکہ ایمبولینس میں موجود لوگوں کو لوٹنے کے غرض سے آئے تھے کچھ دیر بات چیت کے بعد مرحومہ لڑکی کی ضعیف ماں گاڑی سے اتری اور سندھی زبان میں کہنے لگی, 


تمہیں معلوم ہے یہ ایمبولینس کون چلا رہا ہے یہ ایمبولینس عبدالستار ایدھی چلا رہے ہیں یہ سننا تھا کہ گھوڑوں پر سوار یہ تمام ڈاکو اتر کے عبدلستار ایدھی کواپر سے بیچے تک دیکھنے لگے اور ایدھی صاحب کے ہاتھ پومنےلگے, پھر ہوا کیا کے ڈاکو نے اپنے جیب سے پیسے نکالے اور ایدھی فانڈیشن میں چندے کے طور پر جمع کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے, 


ہمیں مرنے کے بعد گھر والوں نے بھی نہیں لینے انا ہے پرپر ہمیں یقین ہے کہ تم ہمیں لینے بھی آوگے اور ہماری قبر ہر مٹی بھی ڈالو گے.


یہ واقع بلقیس ایدھی نے بیان کیا جب وہ خد بطور نرس اس ایمبو لینس میں سوار تھی, 


بانٹوا میمن نسل سے تعلق رکھنے والے اس عظیم شخص نے کبھی انسانیت کی خدمت میں نسلی تعصب, قوم,زبان,مزہب کو نہیں دیکھا اور بے لوث انسانیت کی خدمت بھیک مانگ کر کی, 



انڈین گجرات سے نکال مکانی کر کے ائے عبدالستار ایدھی انتداء میں شادیوں میں برتن دھوتے دودھ اور اخبار فروشی کرتے تھے ان کاموں سے جو امدن ہوتی وہ چھوٹی-موٹی فلاحی کامی میں خرچ کر دیتے تھے. 



ان کے فلاحی کاموں کو دیکھتے ہوئے جلد ہی مخیر حضرات نے انہیں چندہ دینا بھی شروع کر دیا 


کراچی آئے ان کا پہلا کام کراچی کے علاقے میٹھا در میں ایک کمرے میں چھوٹی سے ڈسپینسری قاہم کی جہا آس پاس و خاص طور پر لیاری کی غریب عوام مستفید ہوئ, 




عبدالستار ایدھی نے56/ 1954میں پہلی ایمبولینس خریدی جس کی کل مالیت 2ہزار روپے تھی یہ پرانی ایمبولینس ہل مین وین تھی جو دوسری جنگ عظیم سے بھی استعمال شدی تھی, 2ہزار روپے میں خریدی اس ایمبولینس کا انجن بعد میں ناکارہ ہونے پر دوسرا ڈلوایا گیا, 


ایشئن فلو 1957میں جب یہ وباء چین سے پھیلی عبدلستار ایدھی کو بہت بڑے پیمانے پر فلاحی کام کرنے کا موقع-ملا انہوں نے اس وباء میں چارپائیوں والا کیمپ قائم کیا جس میں مریضوں کو گھر سے لایا جاتا رہا اور سویل ہسپتال میں تربعت پر آئے ڈاکٹران کو وہاں لوگوں کو چیک کرنے اور علاج کے لیے لایا جاتا رہا. 



یہ وہ وقت تھا جب ایشئن فلو سے دنیا میں کافی اموات ہوئ. 


(ایڈھی صاحب کی زندگی پر یہ ایک بڑا مضمون ہے جس کا دوسرا حصہ اگلے ارٹیکل میں ملاحظہ فرمائے)